| |
Urdu News Room |
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے حالات کو تشویشناک قرار دیتے یہ بات انہوں نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں بعض سنیٹرز کی جانب سے وزیراعظم نے بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایوان بلوچستان کی صورتحال پر تفصیلی بحث کرے اور جمعہ کو سینیٹ میں حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے نمائندوں نے تحریک التوا پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ حکومت بھی اس تحریک کا انہوں نے کہا کہ تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں کو ایجنسیوں نے تین اپریل کو بلوچ قوم پرست سینیٹر ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مالک بلوچ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حلفیہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے غیر ذمہ دارانہ بیان مالک بلوچ نے الزام لگایا کہ تینوں بلوچ رہنماؤں کو نہ تو ایران نے مارا سینٹر حاصل بزنجو نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ نے جو آئی جی سینٹر شاہد بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ انہوں نے بلوچستان کے حالات کی خرابی کا ذمہ دار سابق صدر پرویز مشرف کو سینیٹ میں قائد حزب مخالف اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما وسیم سجاد نے کہا کہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سینٹر عبدالرحیم مندوخیل نے بلوچ رہنماؤں کے سینیٹ میں بحث جاری تھی کہ وقت ختم ہونے کی وجہ سے مزید کارروائی پیر تک --
ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔
انہوں نے جوہری اسلحہ کا نام لیے بنا کہا کہ ’لوگوں کی نظریں ہمارے اثاثوں
پر ہیں۔۔ اس ملک کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے ۔۔ کسی کی حب الوطنی پر شک
نہیں ہے اس موقع پر غیر ذمہ داری کے خطرناک نتائج نکلیں گے اور نقصان
ہوگا۔‘
تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے قتل میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ملوث قرار
دینے کے بعد اپنے خطاب میں کہی۔
کہا کہ حقائق جاننے کے لیے عدالتی تحقیقات ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ
حکومت نے بلوچستان کے حالات پر غور کے لیے حکومت اور فوج کی اعلیٰ قیادت پر
مشتمل کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں
اس بارے میں تفصیلی غور ہوگا۔
جو بھی سفارشات آئیں گی حکومت ان پر عمل کرے گی۔
پیش کی کہ ایوان کے قوائد معطل کرکے بلوچستان میں تین قوم پرست رہنماؤں
غلام محمد، لالہ منیر اور شیر محمد بلوچ کی مبینہ طور پر انٹیلی جنس
ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ہاتھوں قتل اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر
بحث کی جائے۔
حصہ بننا چاہتی ہے اور یہ پورے ایوان کی تحریک سمجھ کر اس پر بحث کی جائے۔
جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان
کے بارے میں اعلانات کیے لیکن کوئی عملی اقدامات نہیں کیے اور بلوچستان
میں آج بھی پرویز مشرف کے دور والے حالات ہیں۔
اغوا کیا اور نو اپریل کو ان کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ انہوں نے بلوچستان
سے سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کا بھی ذکر کیا۔
خان مری کی ہلاکت کے بعد غلام محمد بلوچ اور ان کے دو ساتھیوں کا قتل ایک
بہت بڑا واقعہ ہے۔
تین بلوچ رہنماؤں کو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے قتل کیا ہے۔ انہوں
نے بتایا کہ یہ قتل اتنی بے دردی سے کیا گیا ہے کہ لاشوں کے چہروں میں بھی
گولیاں ماری گئیں ہیں۔
دیا ہے کہ اس میں بھارتی ایجنٹ ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا ’میں پوچھتا ہوں کہ
اگر ایسا ہے تو پھر سات لاکھ فوج کیا کر رہی ہے؟ بلوچستان کے حالات انیس
سو ستر جیسے ہوگئے ہیں اور صورتحال خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘
ہے نہ انڈیا نے بلکہ یہ قتل پاکستان کی اسٹیبلشمینٹ نے کیا ہے۔‘
پولیس کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے اس میں فرنٹیئر کور کے لوگ بھی شامل
ہیں، جو بلوچستان میں آپریشن کر رہا ہے۔ جس نے نواب بگٹی کو قتل کیا۔۔
بالاچ مری کو قتل کیا ہے، اس کمیٹی کو تمام جماعتوں نے مسترد کیا ہے'۔
ہیں اور اگر سیاسی حکومت کی مصالحت کی کوششوں کو یہ ادارے ( انٹیلی جنس
ایجنسیاں ) سبوتاژ کرتے ہیں اور حکومت کچھ نہیں کرسکتی تو پھر ملک کا خدا
حافظ ہے۔
قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ شاہد بگٹی نے مزید
کہا کہ ابھی عدالتی تحقیقات شروع ہی نہیں ہوئی ہے تو صدر آصف علی زرداری
اور رحمان ملک نے بیان دیا ہے کہ ایجنسیاں اس میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کے
مطابق حالات ٹینک اور بندوق سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہوں گے۔
بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ ’جب بھی
بلوچستان میں امن کے لیے سنجیدہ کوششیں ہوتی ہیں تو کوئی واقعہ ایسا ہوتا
ہے جس سے حالات دوسرا رخ اختیار کرلیتے ہیں۔ وسیم سجاد نے تین بلوچ
رہنماؤں کے قتل کی سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی جانچ کرانے کا
مطالبہ کیا۔
قتل کی مذمت کی اور کہا کہ اس قتل میں پاکستان کی اسٹیبلشمینٹ ( فوج اور
انٹیلیجنس ایجنسیاں) ملوث ہے۔ جمیعت علماء اسلام (ف) کے سینٹر مولانا
عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلوچوں سے معافی مانگنے اور
ہاتھ جوڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں
نے کہا کہ جب کسی بلوچ کو قتل کریں گے، ان کے بچوں اور عورتوں کو عقوبت
خانوں میں ڈالیں گے تو وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگائے گا۔
ملتوی کردی گئی۔
Posted By PeaceNic to Urdu News Room by IUNN.org INTERNATIONAL Urdu
News Network at 4/21/2009 12:09:00 AM