Web Images News Groups Books Scholar Gmail more »
Recently Visited Groups | Help | Sign in
Google Groups Home
Message from discussion بلوچستان، حالات ...
The group you are posting to is a Usenet group. Messages posted to this group will make your email address visible to anyone on the Internet.
Your reply message has not been sent.
Your post will appear after it is approved by moderators
 
From:
To:
Cc:
Followup To:
Add Cc | Add Followup-to | Edit Subject
Subject:
Validation:
For verification purposes please type the characters you see in the picture below or the numbers you hear by clicking the accessibility icon. Listen and type the numbers you hear
 
PeaceNic  
View profile   Translate to Translated (View Original)
 More options Apr 21, 12:10 am
From: PeaceNic <peac...@gmail.com>
Date: Mon, 20 Apr 2009 12:10:57 -0700 (PDT)
Local: Tues, Apr 21 2009 12:10 am
Subject: [Urdu News Room by IUNN.org INTERNATIONAL Urdu News Network] بلوچستان، حالات ...

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے حالات کو تشویشناک قرار دیتے
ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔
انہوں نے جوہری اسلحہ کا نام لیے بنا کہا کہ ’لوگوں کی نظریں ہمارے اثاثوں
پر ہیں۔۔ اس ملک کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے ۔۔ کسی کی حب الوطنی پر شک
نہیں ہے اس موقع پر غیر ذمہ داری کے خطرناک نتائج نکلیں گے اور نقصان
ہوگا۔‘

یہ بات انہوں نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں بعض سنیٹرز کی جانب سے
تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے قتل میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ملوث قرار
دینے کے بعد اپنے خطاب میں کہی۔

وزیراعظم نے بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور
کہا کہ حقائق جاننے کے لیے عدالتی تحقیقات ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ
حکومت نے بلوچستان کے حالات پر غور کے لیے حکومت اور فوج کی اعلیٰ قیادت پر
مشتمل کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں
اس بارے میں تفصیلی غور ہوگا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایوان بلوچستان کی صورتحال پر تفصیلی بحث کرے اور
جو بھی سفارشات آئیں گی حکومت ان پر عمل کرے گی۔

جمعہ کو سینیٹ میں حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے نمائندوں نے تحریک التوا
پیش کی کہ ایوان کے قوائد معطل کرکے بلوچستان میں تین قوم پرست رہنماؤں
غلام محمد، لالہ منیر اور شیر محمد بلوچ کی مبینہ طور پر انٹیلی جنس
ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ہاتھوں قتل اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر
بحث کی جائے۔

پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ حکومت بھی اس تحریک کا
حصہ بننا چاہتی ہے اور یہ پورے ایوان کی تحریک سمجھ کر اس پر بحث کی جائے۔
جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان
کے بارے میں اعلانات کیے لیکن کوئی عملی اقدامات نہیں کیے اور بلوچستان
میں آج بھی پرویز مشرف کے دور والے حالات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں کو ایجنسیوں نے تین اپریل کو
اغوا کیا اور نو اپریل کو ان کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ انہوں نے بلوچستان
سے سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کا بھی ذکر کیا۔

بلوچ قوم پرست سینیٹر ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی اور بالاچ
خان مری کی ہلاکت کے بعد غلام محمد بلوچ اور ان کے دو ساتھیوں کا قتل ایک
بہت بڑا واقعہ ہے۔

مالک بلوچ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حلفیہ کہتے ہیں کہ
تین بلوچ رہنماؤں کو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے قتل کیا ہے۔ انہوں
نے بتایا کہ یہ قتل اتنی بے دردی سے کیا گیا ہے کہ لاشوں کے چہروں میں بھی
گولیاں ماری گئیں ہیں۔

ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے غیر ذمہ دارانہ بیان
دیا ہے کہ اس میں بھارتی ایجنٹ ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا ’میں پوچھتا ہوں کہ
اگر ایسا ہے تو پھر سات لاکھ فوج کیا کر رہی ہے؟ بلوچستان کے حالات انیس
سو ستر جیسے ہوگئے ہیں اور صورتحال خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘

مالک بلوچ نے الزام لگایا کہ تینوں بلوچ رہنماؤں کو نہ تو ایران نے مارا
ہے نہ انڈیا نے بلکہ یہ قتل پاکستان کی اسٹیبلشمینٹ نے کیا ہے۔‘

سینٹر حاصل بزنجو نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ نے جو آئی جی
پولیس کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے اس میں فرنٹیئر کور کے لوگ بھی شامل
ہیں، جو بلوچستان میں آپریشن کر رہا ہے۔ جس نے نواب بگٹی کو قتل کیا۔۔
بالاچ مری کو قتل کیا ہے، اس کمیٹی کو تمام جماعتوں نے مسترد کیا ہے'۔

سینٹر شاہد بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ
ہیں اور اگر سیاسی حکومت کی مصالحت کی کوششوں کو یہ ادارے ( انٹیلی جنس
ایجنسیاں ) سبوتاژ کرتے ہیں اور حکومت کچھ نہیں کرسکتی تو پھر ملک کا خدا
حافظ ہے۔

انہوں نے بلوچستان کے حالات کی خرابی کا ذمہ دار سابق صدر پرویز مشرف کو
قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ شاہد بگٹی نے مزید
کہا کہ ابھی عدالتی تحقیقات شروع ہی نہیں ہوئی ہے تو صدر آصف علی زرداری
اور رحمان ملک نے بیان دیا ہے کہ ایجنسیاں اس میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کے
مطابق حالات ٹینک اور بندوق سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہوں گے۔

سینیٹ میں قائد حزب مخالف اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما وسیم سجاد نے کہا کہ
بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ ’جب بھی
بلوچستان میں امن کے لیے سنجیدہ کوششیں ہوتی ہیں تو کوئی واقعہ ایسا ہوتا
ہے جس سے حالات دوسرا رخ اختیار کرلیتے ہیں۔ وسیم سجاد نے تین بلوچ
رہنماؤں کے قتل کی سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی جانچ کرانے کا
مطالبہ کیا۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سینٹر عبدالرحیم مندوخیل نے بلوچ رہنماؤں کے
قتل کی مذمت کی اور کہا کہ اس قتل میں پاکستان کی اسٹیبلشمینٹ ( فوج اور
انٹیلیجنس ایجنسیاں) ملوث ہے۔ جمیعت علماء اسلام (ف) کے سینٹر مولانا
عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلوچوں سے معافی مانگنے اور
ہاتھ جوڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں
نے کہا کہ جب کسی بلوچ کو قتل کریں گے، ان کے بچوں اور عورتوں کو عقوبت
خانوں میں ڈالیں گے تو وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگائے گا۔

سینیٹ میں بحث جاری تھی کہ وقت ختم ہونے کی وجہ سے مزید کارروائی پیر تک
ملتوی کردی گئی۔

--
Posted By PeaceNic to Urdu News Room by IUNN.org INTERNATIONAL Urdu
News Network at 4/21/2009 12:09:00 AM


    Reply to author    Forward  
You must Sign in before you can post messages.
To post a message you must first join this group.
Please update your nickname on the subscription settings page before posting.
You do not have the permission required to post.

Create a group - Google Groups - Google Home - Terms of Service - Privacy Policy
©2009 Google