| |
Urdu News Room |
ملک میں شدت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اس علاقے کے مکینوں کو اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے دو سے تین کلومیٹر تک کا آئی ایس آئی کا دفتر اسلام آباد کی سب سے مصروف شاہراہ سہروردی روڈ پر فوج کے اس خفیہ ادارے کے ہیڈ کوراٹر پر فوج کے اہلکار حفاظت کے فرائض قانون نافذ کرنے والے ادارے اُس گاڑی کی تلاش میں ہیں جو راولپنڈی میں واقع بی بی سی کو حاصل ہونے والی سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چار افراد اسلام آباد کی ٹریفک پولیس نے زیرو پوائنٹ سے آبپارہ کی طرف جانے والی اس شاہراہ دستور گزشتہ ڈیڑھ سال سے عام ٹریفک کےلیے بند ہے اس شاہراہ کو سابق اُس وقت کی حکومت نے اس شاہراہ کو اس لیے بند کیا تھا کہ چونکہ پرویز مشرف موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے اس کے علاوہ شہر میں اہم عمارتوں کے باہر بھی بلاک رکھ دیئے گئے ہیں جس کی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اسداللہ فیض کا کہنا ہے کہ عوام کے جان ومال کے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر میں شدت پسند اہم سرکاری عمارتوں اسلام آبادانتظامیہ کے اور پولیس کے دفاتر کے باہر بھی کنکریٹ کے بلاک اور جگہ جگہ کنکریٹ کے بلاک کھڑے کرنے کی وجہ سے جہاں پر ان حساس عمارتوں کے شاہراہ دستور پر واقع ایک سرکاری دفتر میں کام کرنے والے ایک اہلکار تنویر --
اداروں کے اہلکاروں کو متواتر نشانہ بنانے کے بعد اسلام آباد میں فوج کے
خفیہ ادارے آئی ایس ائی کے ہیڈکورٹر کی طرف جانے والے تمام راستوں کو بند
کردیا گیا ہے اور وہاں پر گاڑیوں کے علاوہ پیدل چلنے والوں کو بھی اس طرف
جانے کی اجازت نہیں ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے میریئٹ ہوٹل کے عقب میں واقع
شاہراہ کو بھی بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس ہوٹل کے عقب میں واقع
رہائشی بلاک گلشن جناح کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اضافی فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔
واقع ہے جہاں پر اسلام آباد کی ٹریفک پولیس کے مطابق روزانہ اس شاہراہ سے
پانچ لاکھ کے قریب گاڑیاں گزرتی ہیں۔ اسی شاہراہ پر اسلام آباد کے ترقیاتی
ادارے سی ڈی اے کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔
سرانجام دے رہے ہیں۔
آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کی عمارت کے علاوہ دیگر حساس عمارتوں کی ویڈیو فلمیں
بنا رہے تھے۔
حساس علاقوں میں مشکوک حالت میں گھوم رہے تھے اس دستاویز میں گاڑی کا نمبر
بھی درج ہے جس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تلاش کر رہے ہیں۔
شاہراہ کو سی ڈی اے کے دفتر سے پہلے بلاک رکھ کر بند کردیا ہے جہاں سے
ٹریفک کو گرین ایریا سے عارضی راہداری دیکر اُسے کشمیر ہائی وے پر موڑ دیا
گیا ہے۔ جس کے بعد اسے سیونتھ ایونیو پر موڑ دیا جاتا ہے جہاں سے گاڑیاں
آبپارہ کی طرف جاتی ہیں۔
صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک
میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بند کردیا گیا تھا۔
نے ملک میں ایمرجنسی کے ساتھ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
سمیت اعلی عدالتوں کے ساٹھ ججوں کو معزول کردیا تھا اس لیے اُنہیں خطرہ تھا
کہ وکلاء اس شاہراہ پر آکر احتجاج نہ کریں۔
لیکن یہ شاہراہ بدستور بند ہے اور اس شاہراہ پر پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز
کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔
وجہ سے لوگوں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس شہر میں
مختلف مقامات پر پھولوں کی نمائش ہوا کرتی تھی لیکن اب جگہ جگہ سڑکیں بلاک
ہوئی نظرآتی ہیں۔
تحفظ کو یقینی پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اس لیے کسی بھی
ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں۔
کو نشانہ بنا رہے ہیں اس لیے اُن کی حفاظت کے لیے کنکریٹ کے بلاک ضروری ہے۔
’واک تھروگیٹس‘ لگائے گئے ہیں اس کے علاوہ ان دفاتر سے ملحقہ عمارتوں کی
چھتوں پر پولیس کے کمانڈوز تعینات کیے گئے ہیں۔
قریب رہنے والے مکینوں کو شدید پرشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہاں پر
پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے بھی پرشان ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اس سے
اُنہیں پبلک ٹرانپسورٹ کے ڈرائیور انہیں اپنی منزل سے پہلےہی اُتار دیتے
ہیں۔
کمال کا کہنا تھا کہ اُنہیں روزانہ ڈیڑھ سے دو کلومیٹر چلنا پڑتا ہے کیونکہ
یہ شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے اُن کے دفتر کی جانب کوئی ٹرانپسورٹ نہیں
جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کام کرنے والے متعدد سرکاری ملازمین
کو ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔
Posted By PeaceNic to Urdu News Room by IUNN.org INTERNATIONAL Urdu
News Network at 4/21/2009 12:14:00 AM