ملک میں شدت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے
اداروں کے اہلکاروں کو متواتر نشانہ بنانے کے بعد اسلام آباد میں فوج کے
خفیہ ادارے آئی ایس ائی کے ہیڈکورٹر کی طرف جانے والے تمام راستوں کو بند
کردیا گیا ہے اور وہاں پر گاڑیوں کے علاوہ پیدل چلنے والوں کو بھی اس طرف
جانے کی اجازت نہیں ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے میریئٹ ہوٹل کے عقب میں واقع
شاہراہ کو بھی بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس ہوٹل کے عقب میں واقع
رہائشی بلاک گلشن جناح کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس علاقے کے مکینوں کو اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے دو سے تین کلومیٹر تک کا
اضافی فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔
آئی ایس آئی کا دفتر اسلام آباد کی سب سے مصروف شاہراہ سہروردی روڈ پر
واقع ہے جہاں پر اسلام آباد کی ٹریفک پولیس کے مطابق روزانہ اس شاہراہ سے
پانچ لاکھ کے قریب گاڑیاں گزرتی ہیں۔ اسی شاہراہ پر اسلام آباد کے ترقیاتی
ادارے سی ڈی اے کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔
فوج کے اس خفیہ ادارے کے ہیڈ کوراٹر پر فوج کے اہلکار حفاظت کے فرائض
سرانجام دے رہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اُس گاڑی کی تلاش میں ہیں جو راولپنڈی میں واقع
آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کی عمارت کے علاوہ دیگر حساس عمارتوں کی ویڈیو فلمیں
بنا رہے تھے۔
بی بی سی کو حاصل ہونے والی سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چار افراد
حساس علاقوں میں مشکوک حالت میں گھوم رہے تھے اس دستاویز میں گاڑی کا نمبر
بھی درج ہے جس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تلاش کر رہے ہیں۔
اسلام آباد کی ٹریفک پولیس نے زیرو پوائنٹ سے آبپارہ کی طرف جانے والی اس
شاہراہ کو سی ڈی اے کے دفتر سے پہلے بلاک رکھ کر بند کردیا ہے جہاں سے
ٹریفک کو گرین ایریا سے عارضی راہداری دیکر اُسے کشمیر ہائی وے پر موڑ دیا
گیا ہے۔ جس کے بعد اسے سیونتھ ایونیو پر موڑ دیا جاتا ہے جہاں سے گاڑیاں
آبپارہ کی طرف جاتی ہیں۔
شاہراہ دستور گزشتہ ڈیڑھ سال سے عام ٹریفک کےلیے بند ہے اس شاہراہ کو سابق
صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک
میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بند کردیا گیا تھا۔
اُس وقت کی حکومت نے اس شاہراہ کو اس لیے بند کیا تھا کہ چونکہ پرویز مشرف
نے ملک میں ایمرجنسی کے ساتھ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
سمیت اعلی عدالتوں کے ساٹھ ججوں کو معزول کردیا تھا اس لیے اُنہیں خطرہ تھا
کہ وکلاء اس شاہراہ پر آکر احتجاج نہ کریں۔
موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے
لیکن یہ شاہراہ بدستور بند ہے اور اس شاہراہ پر پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز
کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔
اس کے علاوہ شہر میں اہم عمارتوں کے باہر بھی بلاک رکھ دیئے گئے ہیں جس کی
وجہ سے لوگوں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس شہر میں
مختلف مقامات پر پھولوں کی نمائش ہوا کرتی تھی لیکن اب جگہ جگہ سڑکیں بلاک
ہوئی نظرآتی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اسداللہ فیض کا کہنا ہے کہ عوام کے جان ومال کے
تحفظ کو یقینی پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اس لیے کسی بھی
ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر میں شدت پسند اہم سرکاری عمارتوں
کو نشانہ بنا رہے ہیں اس لیے اُن کی حفاظت کے لیے کنکریٹ کے بلاک ضروری ہے۔
اسلام آبادانتظامیہ کے اور پولیس کے دفاتر کے باہر بھی کنکریٹ کے بلاک اور
’واک تھروگیٹس‘ لگائے گئے ہیں اس کے علاوہ ان دفاتر سے ملحقہ عمارتوں کی
چھتوں پر پولیس کے کمانڈوز تعینات کیے گئے ہیں۔
جگہ جگہ کنکریٹ کے بلاک کھڑے کرنے کی وجہ سے جہاں پر ان حساس عمارتوں کے
قریب رہنے والے مکینوں کو شدید پرشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہاں پر
پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے بھی پرشان ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اس سے
اُنہیں پبلک ٹرانپسورٹ کے ڈرائیور انہیں اپنی منزل سے پہلےہی اُتار دیتے
ہیں۔
شاہراہ دستور پر واقع ایک سرکاری دفتر میں کام کرنے والے ایک اہلکار تنویر
کمال کا کہنا تھا کہ اُنہیں روزانہ ڈیڑھ سے دو کلومیٹر چلنا پڑتا ہے کیونکہ
یہ شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے اُن کے دفتر کی جانب کوئی ٹرانپسورٹ نہیں
جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کام کرنے والے متعدد سرکاری ملازمین
کو ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔
--
Posted By PeaceNic to Urdu News Room by IUNN.org INTERNATIONAL Urdu
News Network at 4/21/2009 12:14:00 AM