Web Images News Groups Books Scholar Gmail more »
Recently Visited Groups | Help | Sign in
Google Groups Home
ایرانی صدر کے خط...
There are currently too many topics in this group that display first. To make this topic appear first, remove this option from another topic.
There was an error processing your request. Please try again.
flag
  1 message - Collapse all  -  Translate all to Translated (View all originals)
The group you are posting to is a Usenet group. Messages posted to this group will make your email address visible to anyone on the Internet.
Your reply message has not been sent.
Your post will appear after it is approved by moderators
 
From:
To:
Cc:
Followup To:
Add Cc | Add Followup-to | Edit Subject
Subject:
Validation:
For verification purposes please type the characters you see in the picture below or the numbers you hear by clicking the accessibility icon. Listen and type the numbers you hear
 
PeaceNic  
View profile   Translate to Translated (View Original)
 More options Apr 21, 12:43 am
From: PeaceNic <peac...@gmail.com>
Date: Mon, 20 Apr 2009 12:43:13 -0700 (PDT)
Local: Tues, Apr 21 2009 12:43 am
Subject: [Urdu News Room by IUNN.org INTERNATIONAL Urdu News Network] ایرانی صدر کے خط...

نسل پرستی پر اقوام متحدہ کی کانفرنس سے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے
خطاب کے دوران مغربی ملکوں کے سفارتکار اس وقت واک آؤٹ کر گئے جب انہوں نے
اسرائیل کو ایک ’نسل پرست حکومت‘ قرار دیا۔
رنگین وِگیں پہنے ہوئے دو احتجاجیوں نے صدر احمدی نژاد کی تقریر کے شروع
میں شور شرابا کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد مغربی ممالک کے سفارتکار
کانفرنس سے واک آؤٹ کر گئے۔

جب احتجاج کے باوجود ایرانی صدر احمدی نژاد نے اپنی تقریر جاری رکھی تو
وہاں پر موجود مندوبین نے پرجوش تالیاں بجائیں۔

فرانس کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’نفرت انگیز‘ تقریر تھی۔ امریکہ، آسٹریلیا
اور جرمنی سمیت کئی مغربی ممالک پہلے ہی کانفرنس کا بائیکاٹ کر چکے ہیں۔

جنیوا میں ہونے والی کانفرنس کے بارے میں پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا
تھا کہ یہ صیہونیت کے خلاف فورم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ کانفرس کو اقوام
متحدہ کی دو ہزار ایک میں ڈربن میں ہوئی کانفرنس کی کڑی قرار دیا جارہا
تھا جسے بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم کردیا گیا تھا۔

جنیوا میں بی بی سی کی نامہ نگار ایموجین فوکس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک
کا واک آؤٹ اقوامِ متحدہ کے لیے تعلقاتِِ عامہ کی ایک بدترین ناکامی ہے جسے
امید تھی کہ کانفرنس اقوام متحدہ کے لیے فرائض کی انجام دہی کی ایک روشن
مثال بنے گی۔

کم از کم تیس ملکوں کے مندوبین کا واک آؤٹ ایرانی صدر کی تقریر کے شروع
ہونے کے چند منٹ کے اندر ہوا۔

کانفرنس ہال سے باہر لائے گئے دو میں سے ایک احتجاجی نے صدر احمدی نژاد کی
طرف اس وقت کوئی چیز بھی پھینکی جب وہ تقریر کرنے کے لیے ابھی کھڑے ہی
ہوئے تھی۔ احمدی نژاد وہ واحد سربراہِ مملکت ہیں جو اس کانفرنس میں شرکت کر
رہے ہیں۔

اپنی تقریر میں احمدی نژاد نے کہا کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد یورپ اور
امریکہ سے یہودی تارکین وطن کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا گیا تھا تاکہ ’مقبوضہ
فلسطین میں ایک نسل پرست حکومت قائم کی جا سکے‘۔

بعد میں فرانسیسی سفیر ژاں بیپٹیسٹ ماتئے نے کہا کہ جیسے ہی صدر احمدی
نژاد نے یہودیوں اور اسرائیل کے بارے میں بات شروع کی اس کے بعد ہمارے پاس
کمرے میں رہنے کی کوئی وجہ نہیں رہی تھی۔

برطانوی سفیر پیٹر گڈرہم بھی ان سفارتکاروں میں شامل تھے جنہوں نے کانفرنس
سے واک آؤٹ کیا۔ انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ایسی اشتعال انگیز
تقریر کا اقوامِ متحدہ کی اس کانفرنس میں کوئی جواز نہیں جس کا مقصد نسل
پرستی کے موضوع پر غور کرنا اور اس کا حل تلاش کرنا تھا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ناوی پیلے نے کہا تھا کہ وہ کانفرنس
کے بائیکاٹ پر حیران اور مایوس ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ناوی نے کہا تھا ’چند ممالک نے ایک یا دو
وجوہات کی بنا پر نسلی امتیاز کے حوالے سے اپنا مؤقف ترتیب دیا ہے اور یہ
مؤقف ان تمام لوگوں کو نظر انداز کر رہا ہے جو نسلی امتیاز سے متاثر ہو
رہے ہیں۔‘

جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں دو ہزار ایک میں ہوئی کانفرنس میں بعض غیر
سرکاری تنظیموں نے صیہونیت کے خلاف بیانات دیئے تھے جبکہ کانفرنس میں بعض
ممالک کی جانب سے صیہونیت کو نسل پرستی سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔

تقریباً آٹھ سال کے بعد نسلی امتیاز پر پہلی بین الاقوامی پانچ روزہ کانفرس
کا افتتاح اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کیا۔ کانفرنس میں
ڈربن کانفرنس میں طے کیے گئے نکات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس کانفرس کے حق میں پوپ بینیڈکٹ نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانفرس
کے انعقاد سے نسلی امتیاز اور تعصب کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

کانفرنس کے حمتی مسودے میں سے اعتراضات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں سے
اسرائیل اور مشرق وسطٰی کے ذکر کو نکالا جا رہا ہے۔

تاہم مشرقِِ وسطیٰ کے ملکوں کی درخواست پر مشترکہ اعلامیے میں مذہبی منافرت
پر اکسانے سے متعلق ایک جملہ شامل کیا گیا ہے جسے کئی مغربی ممالک آزادیِِ
اظہار پر پابندی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل مخالف
زبان، جو بعض مواقع پر ہسٹیریائی اور الٹ نتائج کی حامل ہے‘ ان کی
انتظامیہ کے لیے سرخ لکیر ہے۔

یورپی یونین میں شامل ممالک امریکی بائیکاٹ کی تقلید کرنے یا نہ کرنے کے
معاملے میں تقسیم کا شکار ہیں۔ جرمنی وہ آخری ملک ہے جس نے کانفرنس میں
شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا، اسرائیل، اٹلی، ہالینڈ اور نیوزی
لینڈ پہلے ہی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دوسری طرف فرانس نے اعلان کیا کہ وہ کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ برطانیہ
پہلے ہی کانفرنس میں شرکت کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔

--
Posted By PeaceNic to Urdu News Room by IUNN.org INTERNATIONAL Urdu
News Network at 4/21/2009 12:41:00 AM


    Reply to author    Forward  
You must Sign in before you can post messages.
To post a message you must first join this group.
Please update your nickname on the subscription settings page before posting.
You do not have the permission required to post.
End of messages
« Back to Discussions « Newer topic     Older topic »

Create a group - Google Groups - Google Home - Terms of Service - Privacy Policy
©2009 Google